حفیظ الرحمٰن احسن
گڑیا کی شادی ، میں نے رچائی
گُڈے کو لے کر ، بارات آئی
دولہا میاں کیا آئے ہیں سج کر
بارات لائے ہیں یا کوئی لشکر
گھوڑے کے اوپر بیٹھے ہیں ڈٹ کر
ٹھہرے ہیں لیکن کچھ دور ہٹ کر
کیا میری گڑیا لے جائیں گے وہ
میں تو نہ بھیجوں ، ننھی دلہن کو
میں کیوں رچاﺅں ، گڑیا کی شادی
گڑیا ہے میری ، میں اس کی باجی
اس کی جدائی مجھ کو نہ بھائے
بارات اب تو واپس ہی جائے